تازہ ترینصحت

مَردوں کی نسبت خواتین زیادہ خون کی کمی کا شکار ہوتی ہیں

خون کی کمی کے باعث بیشتر خواتین شدید تھکاوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں

انسانی جسم میں خون کی کمی (Anemia) ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون کے سرخ خلیے بننا کم ہوجاتے ہیں۔

خون کے سرخ خلیوں میں موجود ہیموگلوبن جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتا ہے جو آئرن اور پروٹین سے مل کر بنتا ہے۔

خون میں ہیموگلوبن کی کمی ہی دراصل انیمیا یا خون کی کمی کہلاتی ہے۔ خون کے سرخ ذرات کی زندگی کا دورانیہ 120دن ہوتا ہے۔

اگر کسی فرد میں یہ کمی پائی جائے تو اس کی صحت کو کئی طرح کے مسائل لاحق ہو جاتے ہیں۔ 

عالمی ادارئہ صحت کے مطابق خواتین میں یہ مسئلہ مَردوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔

 اس وقت دنیا بھر میں بلوغت کی عمر میں داخل 29 فی صد لڑکیاں، 33فی صد غیرحاملہ شادی شدہ خواتین جبکہ 38فی صد حاملہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔

اگر ہم افریقا، جنوب مشرقی ایشیااور بحرالکاہل کے مغربی خطوں کی بات کریں تو وہاں 90فی صد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں، جس سے اس مسئلے کی سنگینی ظاہرہوتی ہے۔

اس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری یا سر چکرانا، زرد رنگت، سینے میں درد، شدید تھکن، حاملہ ہونا یا کسی وجہ سے خون کا اخراج، سردرد کی شکایت، دھڑکن بے ترتیب ہونا، ہاتھ پیر ٹھنڈے رہنا وغیرہ شامل ہیں

اس کی وجوہات میں درکار وٹامنز نہ ملنا، آئرن کی کمی، ہڈیوں کا گودا کم ہوجانا یا دیگر امراض شامل ہیں۔ مزید برآں تمباکونوشی، وزن بڑھنے یا بڑھتی عمر کی وجہ سے بھی یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

خون کی کمی والے افراد کو فوری طور پر اپنا علاج شروع کر دینا چاہیے اور ساتھ ہی اپنے روزمرہ معمولات میں بھی تبدیلی لانا چاہیے۔

ایسے افراد کو چاہئے کہ فوری ماہرمعالج سے رابطہ کریں، ورزش کو روزانہ کا معمول بنائیں اور اپنی خوراک میں پھل، سبزیوں اور گوشت کا اضافہ کریں۔




Source link

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button