تازہ ترینٹیکنالوجی

طوفان برق وباراں، موسمی تبدیلی کا ردعمل

جب کبھی آسمان کی بلندی پر بجلی کی بارش، گردوغبار کا طوفان، بارش اور بادل کی گھن گرج سنائی دے تو یہ صورت حال پر کسی طوفان کی آمد کا ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر ”طوفان برق اور باراں”۔ گزشتہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے 6؍جون 202ء پاکستان میں کئی بار ”طوفان برق و باراں” (گرج چمک کے ساتھ) کی وقوع پذیری عمل میں آئی۔ طوفان کسی علاقے کا بھی موسم میں موجود ہوتا ہے۔ جو موسمی تبدیلیوں کو کنٹرول کرتا ہے، جس میں درجۂ حرارت، دبائو، رطوبت اور ہوائیں شامل ہوتی ہیں۔

آندھی یا طوفان ہی عناصر اربعہ کی مجموعی تبدیلیوں کا نام ہے۔ لیکن ہر موسم کی تبدیلی کی اصل حرارت ہوتی ہے اور سرد اور گرم کی صورت میں اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اکثر موسم کی تبدیلی ”دائرہ قطب” (سرکم پول) کے گرد گھومنے کی وجہ سے لیتی ہے، کیوں کہ اس زون میں سرد ہوا ”پول” سے نیچے کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ جو ”خط استواء” کے علاقے سے والی والی ہوا کے ساتھ تصادم گرم ہوتا ہے۔ سرد ہوا کشاف کی وجہ سے زمین کے قریب چپکے۔ گرم ہوا کے اندر دبائو کے ساتھ پنجوں کی شکل میں سرایت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس طرح ٹروکپوز (ٹراپکس) جو خط جدی اور خط سرطان کے درمیان علاقے میں آپ کو تھرسٹ کرتا ہے۔ اس دوران گرم ہوا سرد ہوا اوپر پھسل کر اسے پول کی طرف جھکیل۔ چناں چہ گرم اور سرد ہوا تصادم سے طوفانی مرکز (طوفان مرکز) کی تشکیل ہوتی ہے، جس سے طوفانی کیفیت کا آغاز ہوتا ہے۔ جب دو مختلف ہوئے ڈھیر (بڑے پیمانے پر) یا جسم کا آپ سے رابطہ ہوتا ہے تو اس میں آپ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اس کے لیے جو بانڈری لائن یا جمہوری زون تشکیل پاتی ہے۔ عمومی وہ طور پر لہرے دارہوتی۔

لوگ” فرنٹ” (فرنٹ) جو طوفان کی آمد کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ گرم ہوا کے نیچے کی طرف سے دھکیل کر اوپر کی طرف سے کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے فرنٹ کا جھکاؤ سرد اوپر بھی ہوتا ہے۔ ڈھیر میں ہمیشہ حرکت کرتے ہیں اور حرکت کرتے ہیں ڈھیر پہ ہوتا ہے۔ جب حرکت کرتی ہوئی ٹھنڈی ہوئی کثیف ہونے کی وجہ سے گرمی میں سرایت کرتی ہے تو ”سرد فرنٹ” (کولڈ فرنٹ) کی تشکیل ہوتی ہے۔ مزید سفر کرتے ہوئے سرد ہوئے ”گرائونڈ” کی قوت مزاحمت کی وجہ سے رک جاتی ہے، جس کی وجہ سے سرد ستون کی طرح زیادہ زاویہ میلان کے ساتھ اوپر داخل ہوتا ہے۔

سرد ہوا کا ڈھیر تیزی سے حرکت کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی اوسط رفتار 20 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس کی حرکت عام طور پر موسم سرما میں گرما کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ہوتی ہے، کیوں کہ زیادہ ٹھنڈی اور بھاری ہو جاتی ہے۔ اس فرنٹ پہ جنم لینے والے بادل اور بادل کے دل (بادلوں کا مجموعہ) مختصر مگر بے قابو ہیں اور تیزی سے آگے بڑھتے ہیں جو بادل کے بعد بجلی کی کھڑکی اور موسم کا موسم بنتی ہیں جو برق اور باراں ہیں۔ سبب بنتی دوسری طرف جب گرم ہوا سرد ہوا تو ڈھیر سے گزرتی ہے تو ایک ”گرم فرنٹ” (گرم فرنٹ) کی تشکیل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بتدریج کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بادل کی وسعت ”فرنٹ پیس”۔ 100میل تک ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے خطہ میں طوفانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

اس سے جہاں تک ”طوفان برق و باراں” کا تعلق ہے تو یہ کئی مقامی طوفانوں کے یکجا ہو کر زبردست بجلی کی کھڑکی اور طوفان کی گرج سے علاقے لرزتے ہیں۔ یہ طوفان بہت تیزی سے گرم ہوا کالم سرد کے ساتھ مماثلت پیدا ہوا۔ ”طوفان برق و باراں” سرد اور گرم دونوں فرنٹ میں تشکیل پاتی۔ جب گرم حرکت کرتا ہے تو سرد کے ساتھ ہوا میں سست رفتاری سے اوپر سوار ہو جاتا ہے تو دبائو پر ”تکثیف” یا پھر بارش کے عمل کا آغاز ہو جاتا ہے۔ جب سرد اور کثیف گرم ہوا کے نیچے داخل ہوتا ہے تو یہ تقریباً عمودی بانڈری ظاہر ہوتا ہے اور زیادہ بارش اور طوفان اور باراں کا سبب بنتی۔

یہ عمل عام طور پر کئی مسائل میں تشکیل پاتے ہیں یعنی ابتدائی مرحل اس وقت سامنے آتی ہے جب گرم ہوائی روائیں 2500فٹ تک بلند ہوتی ہیں۔ موجود رطوبت اس وقت تکثیف ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ پختہ (بالغ) شروع ہونے کا آغاز اس وقت ہوتا ہے، جب بادل کی طرف سے بارش کے عمل کا آغاز ہوتا ہے اور بہت ہی موسم بہار کی بوچھاڑ کے نیچے گرتے ہیں اور بارش گرج چمک کے ساتھ کے درمیان اوپر اور نیچے کی طرف حرکت کرنے لگتے ہیں۔ اور موسلا دھار بارش بادلوں کے نیچے ہر طرف منتشر ہونے لگے۔

یہ طوفانی بارش ہوئی جس سے مرکز کی تیز رفتاری ہوئی اور کا عمودی بہاؤ بڑی تیزی کے ساتھ بارش کو اولے (اولے) میں تبدیل کر دیا، جس کے بعد آخری مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ بالائی ہوائی روئیں تصور ہو جاتی ہے۔ جیسے نم ہوا کی طرف سے حرکت ختم ہو جاتی ہے تو بارش میں بتدریج کمی آجاتی ہے اور آخر کار تھم تو بالائی اور زیریں طرف گرج کی حرکت ختم ہو جاتی ہے۔ بادل کے بالائی طرف برف کی آہرن شکل (انول کی شکل والی) یعنی آئرن جس پہ دھانوں کی ضرب لگائی جاتی ہے۔ جو تیری برق و باراںبادل کی اہم خصوصیت ہوتی ہے۔

اس کے بعدچمک دار روشنی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب الیکٹریکل انچارج بادل کے اطراف بنتی۔ بالائی طرف بادل مثبت چارج ہوتا ہے جب نیچے آتے ہیں بادل زیادہ تر منفی چارج کرتے ہیں۔ مثبت چارج پانی کے قطروں اور برف کے قلموں کے درمیان مخالف رگڑ کھانے کی وجہ سے اوپر اٹھتی ہوئی روئیں۔ قوت رگڑ میلی کے طور پر یہ واقعات ہیں کہ وہ قطروں سے الیکٹرون کو حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح بادل کے نیچے میں منقی چارج کی مرکزیت کا سبب بنتی۔ اوپر اٹھاتی ہوئی نم زدہ اجزاء (نمی کے ذرات)

طوفان برق وباراں، موسمی تبدیلی کا ردعمل

وہ مثبت چارج میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ بالائی بادل کا مثبت چارج بدلنے کی وجہ سے بنتی ہے۔ جب الیکٹریکل فرق ” ٹھنڈر بادل ” (تھنڈر کلاؤڈز) کے اور سطحی طرف بہت زیادہ ہو جائے تو ایک بجلی کا ڈسچارج بادل دو طرف سے گزرتا ہے۔ اس قسم کے سچارج اس وقت جب نیچے آتے ہیں تو آسمان کے کچھ وقت کے بادل مثبت چارج میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اوپری اورنچلی بادلوں کے درمیان حرکت ہوتی ہے جب کہ طوفان کی بجلی اور چمک کی وجہ سے۔ تیزی سے گرمی میں اضافہ ہوا اور کا قرار دیا گیا جہاں سے آسمانی بجلی کی چمک گزرتی ہے۔

بجلی کی چمک بادل اور گراؤنڈ کے درمیان بھی گزرتی ہے اگر مواقف سمت میں۔ عام طور پر جو اوپر موجود ہوتا ہے۔ بہرحال پالیسی بیس چارج سے جو کہ ”نڈر بادل” میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے گراؤنڈ طور پر مثبت چارج ہوتا ہے۔ بادل اور گراؤنڈ کے الیکٹریکل فرق کے درمیان بہت زیادہ تو روشنی کی ظہور پذیری عمل میں آئے۔ آسمانی بجلی بلند رفتار کیمرہ (ہائی سپیڈ کیمرہ) کی تحقیق اور مشاہدے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بجلی کے ضرب (فالج) کا آغاز بجلی کے ایک چھریرا (پتلا) رہنما (لاڈر) سے ہوتا ہے۔

یہ عام طور پر بادل سے گراؤنڈ کی طرف حرکت کرتا ہے۔ لیکن بعض اوقات مختلف سمت میں بھی رخ کرتے ہیں۔ بجلی کے سربراہی ضرب کے فوراً بعد ایک واپسی ضرب بھی حرکت میں آتی ہے جو کئی ڈسچارج اور واپسی ضرب سے منسلک ہوتا ہے اور دسویں شام سے بھی کم وقفے میں انجام پاتا ہے۔ ایک اوسط آسمانی بجلی کے ڈسچارج ہونے کا تخمینہ 20 سے 30 ولٹ نکل گیا۔ بجلی کے ڈسچارج ہونے کے امکانات کا اندازہ بجلی کی چمک اور طوفانی سکنڈ کی آواز سے شمار ہوتا ہے۔ سکنڈ کے نمبر کو 5 سے تقسیم کیا جائے تو تقریباً فاصلہ میل میں حاصل کیا جائے۔

ہر سال آسمانی بجلی اور طوفانِ بر و باراں سے امریکہ میں 200 افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں لیکن عام حفاظتی اصولوں کو مد نظر رکھا جائے تو نقصانات میں کمی واقع ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آسمانی بجلی سے محفوظ کرنے کا اصول بہتر ہے کہ طوفان برق و باراں کے دوران کسی بھی جگہ کھلی جگہ پر اور واضح زمینی ساخت کے دور کے میدان سے۔ یاد رہے کہ بجلی کم مزاحمتی والے راستے کے اطراف سفر کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ خاص طور پر زیادہ تر کسی علاقے میں موجود بلند مسافت کو ضرب لگاتی ہے۔ پاکستان کے ہمارے رات موسم گرما کے آغاز میں دوپہر یا شام کے وقت برق اور باراں آتے ہیں، جس کے دوران رفتار بڑی تیز اور تند ہوتی ہے۔

یعنی 30سے 40میل فی گھنٹہ، آندھی میں اپنی طاقت ہوتی ہے کہ درختوں کو جڑ سے اکھیڑ ڈالتی۔ پاکستان کے ہمارے موسم گرما کے آغاز میں دوپہر، شام یا رات کے وقت طوفانی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جس کے دوران ہوا کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ یعنی 30 سے ​​40 میل فی گھنٹہ۔ آندھی میں آپ کو طاقت ہوتی ہے کہ درختوں کو جڑ سے اکھیڑ تک۔ بجلی کے گھمبوں اورمکانات کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ طوفان کے دوران گرد و غبار سے منہ میں گھس جاتے ہیں اور دم گھٹنے لگتا ہے۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں موسمی حالات کے دوران ”موسمی نقشہ چار” شائع کیا جاتا ہے، جس میں موسمی رپورٹ کے روز چھاپ جاتا ہے، جس سے صرف موسم میں تبدیلی کا اندازہ نہیں ہوتا بلکہ یہ زراعت ہے۔ اور جہاز رانی کے لیے فضلی بھی فراہم کرتا ہے جو بڑی حد تک درست اور سود مند ثابت ہوتا ہے۔

setTimeout(function()
!function(f,b,e,v,n,t,s)
if(f.fbq)return;n=f.fbq=function()n.callMethod?
n.callMethod.apply(n,arguments):n.queue.push(arguments);
if(!f._fbq)f._fbq=n;n.push=n;n.loaded=!0;n.version=’2.0′;
n.queue=[];t=b.createElement(e);t.async=!0;
t.src=v;s=b.getElementsByTagName(e)[0];
s.parentNode.insertBefore(t,s)(window,document,’script’,
‘https://connect.facebook.net/en_US/fbevents.js’);
fbq(‘init’, ‘836181349842357’);
fbq(‘track’, ‘PageView’);
, 6000);

/*setTimeout(function()
(function (d, s, id)
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) return;
js = d.createElement(s);
js.id = id;
js.src = "//connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.11&appId=580305968816694”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));
, 4000);*/


Source link

Related Articles

Back to top button