تازہ ترینٹیکنالوجی

”سائبر کرائم” اس کے جال میں سب کا نمبر آسکتا ہے۔

دور جدید سے مرہ زندگی میں بہت سی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر روز ہماری مجبوری بنتی ہے۔ اپنے پیاروں سے رابطہ کریں یا ٹی وی، معلومات عامہ، تعلیم، کاروبار یا بینکنگ اور ملازم ہو، بڑی حد تک انٹرنیٹ کی مرہون منت۔ خود گاڑی لے کر آن لائن ہوم سسٹم تک، ہم ہر سہولت میں یا سائبر سسٹم پر پہنچتے ہیں۔ خود ساختہ عناصر کے طور پر انٹرنیٹ کو اپنے ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور بنیاد پر نئے حل اور فارمولے لیتے ہیں۔ لوگوں کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کے لیے کالز کے ویڈیو ان کے ساتھ ڈیفراڈ کرنے کے لیے، پیسے حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی باتیں تیار کرنا یا جیسے کوئی اور معاملات۔ اسے سائبر کرائم ہی کہتے ہیں۔

” ہیلو !

میں صدر تھا۔

آپ فہیم صدیقی بول رہے ہیں؟”

میں آفس جانے کے لیے نکل رہا تھا کہ اسی دوران ایک نامعلوم نمبر والی کال والی دوسری طرف سے سخت لہجے میں سوال کیا گیا۔ بات کرنے والے نے میرے جی کے جواب میں آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ آپ کا بھتیجا اس وقت ہمارے پاس صدر تھا اور اس کے خلاف ایف آئی آر آئی۔ یہ دو اور لڑکوں کے ساتھ کسی لڑکی سے آیا تھا۔ اب ہمیں اسے ایس پی کے سامنے پیش کرنا ہے۔

ٹہر کر لیکن سخت لہجے میں بات کرنے والے شخص نے کچھ توقف کیا جیسے میرا جواب دینا چاہنا ہو لیکن خاموشی سے اس کی بات سن رہا ہوں۔ کچھ دیر چپکے والے نے اس کے بعد دوبارہ بات شروع کی اور بولا کہ اگر آپ ہمیں کچھ بھیج دیں تو ہم آپ کو بھتیجے کو ایس پی کے سامنے نہیں دیں گے اور سارا ملبہ باقی دو لڑکوں پر ڈال دیں گے۔

میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں آفس کے دو افراد اسی کالز ریسیو کرچکے تھے اور اپنے آپ کو بھتیجوں کو ایس پی کے سامنے پیش کرنے کے لئے تین لاکھ روپے ٹرانسفر کرچکے تھے اور جب تک انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ فراڈ کے ساتھ بہت کچھ ہے۔ دیر کے بعد میں نے یہ ساری باتیں بتائی تھیں اور مجھے سنائی تھی۔ میری مسلسل خاموشی پر دوسری طرف سے یہ سمجھا گیا کہ شاید میں بری ہوں اور لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

اس بار وہ بولا تو اس کا لہجہ ہمدردانہ تھا، کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ بچے ہیں، غلطی، بس آپ پر دو لاکھ روپے ٹرانسفر مجھے فوری طور پر۔ اس بار میں نے آگے کے لیے سوال کیا ہے کہ ”میرا کون بھتیجا آپ کے پاس؟”۔عام طور پر ایسے کالز پر لوگ اس خوفزدہ ہوچکے ہیں کہ یہ سوال نہیں کرتے۔ میرے اس سوال پر وہ سا گڑبڑا گیا لیکن اس نے فوری طور پر پینٹرا بدلا اور انتہائی بدتمیزی سے بولا۔ "اوئے … تیری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں بول رہا ہوں؟ یہ بات کر کے اپنے بھتیجے سے۔”

اسی وقت دوسری طرف سے ایک ڈری سہمی آواز آئی، مجھے بچاؤ، انہوں نے مجھے بہت مارا۔ فون پر اب کی دوبارہ آواز آئی ” تسلی؟ تیرا تیجا ہے نا؟” اس شخص کا اتنا ہی نام ہے اور ڈرامائی انداز میں خود ہی کوئی نام بتادیتا ہے۔ دوسری جانب سے اسی نام پر فراڈ کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔

میں نے اپنے 3 بتانے کا نام لے لیا۔

یہ سب کسی عام شہری کو خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے اور پھر وہ سب کچھ کرتے ہیں۔ وہ اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش بھی نہیں کر سکتا کہ جس بھتیجے یا بھانجے کے لیے کہا جائے یا والدین کو ایک کال کا نام دیا جائے، پھر اس کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ عام لوگ عزت کے مطالبات کے لیے کہتے ہیں۔ مانتے جاتے مجھے آفس کی جلدی تھی اور اس طرح میں اس فراڈ سے پوری طرح واقف تھا۔ اس کے لیے اس وقت کے ضیاع سے کئی سال میں کال کاٹ دیا گیا تھا لیکن اس نمبر پر کئی نامعلوم نمبرز سے مجھے کالز تک آتے آتے ہیں۔ تین قسطوں میں 8 لاکھ روپے ٹرانسفر کرچکے کے بعد انہوں نے رابطہ کیا۔

وہ بھی اسی طرح صدر تھے۔ عام طور پر صدر کا علاقہ اور اس کے نام سے زیادہ تر معاشرہ آسان ہوتا ہے، اس کے لیے کال کرنے والے یہ نام لینا چاہتے ہیں۔ ہمارے کال پر کولیگ کو حیدر آباد کے صدر کا کہنا تھا کہ اس کے لیے فوری ڈی آئی جی حیدرآباد کی بات اور انہیں آرہی نمبر سے بھیجا گیا تھا۔ صحت ہی دیر میں اس نمبر کی لوکیشن آچکی تھی اور وہ بہاولپور کی تھی۔ پاکستان میں اس طرح کی کالز کمپنی کو فون کرنے والے افراد کو معلوم ہوتا ہے لیکن عملاً قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وجہ سے اس میں کارکردگی صفر بٹا ہے۔ کرنے کو

اب سوال یہ ہے کہ یہ ڈیٹا انٹرنیٹ پر آتا ہے؟ وہ شہری کا شناختی کارڈ نمبر بھی ثبوت دہراتا ہے۔ عام طور پر بینکنگ سے متعلق فراڈ میں کیا جاتا ہے، جس میں لوگوں سے ان کے ایم ایم نمبر اور کارڈ کے پیچھے درج تین ہندسوں کا سی وی سی نمبر یہ گروپ کر مانگا ویریفیکیشن درکار ہیں آپ کا اکاؤنٹ یا آپ کا اے ایم کارڈ سامنے آئے۔

سی وی وی یا سی کارڈ ویریفیکیشن ویلیو یا کارڈ ویریفیکیشن کوڈ کو کہا، جس کے حصول کے بعد آپ کے کارڈ کو انٹرنیٹ پر بھی بآسانی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن فراڈ بھی کسی طرح کا ہو، جو چیز پہلے درکار ہوتی ہے وہ سب کا نام ہے، فون نمبر اور شناختی کارڈ نمبر ہوتا ہے، کہ کال ریسیو کرنے والے کو یہ کال کرنے والے ادارے یا بینک سے ہی دشمنی ہے۔ پاکستانیوں کی قسمت دیکھیں کہ یہ انتہائی ذاتی معلومات انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ یہ غالباً پڑھنا پڑھنا آپ کے لیے نئی اور حیرت کی بات ہے لیکن حقیقت میں ایسا ہی ہے۔ انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹس اور اینڈرائڈ ایپس پر سپورٹرز کا یہ انتہائی ذاتی ڈیٹا موجود ہے فشنگ کرنے کے لیے کسی قیمتی سرمایہ سے کم نہیں ہے۔

ان کی ویب سائٹ یا اینڈرائڈ ایپس پر آپ کا شناختی کارڈ نمبر ڈال کر آپ کے نام پر موجود موبائل نمبر یا موبائل نمبر پر آپ کا شناختی کارڈ نمبر اور گھر کے ایڈریس بسانی حاصل کریں اور آپ کا شناختی کارڈ کسی شخص کے پاس ہے۔ یہ تینوں باتوں میں موجود ہوں اسے کسی کال کورٹ میں یقین دلانے میں زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑتی کہ وہ متعلقہ ادارے یا بینک کال کریں۔

پاکستانیوں کے اس انتہائی ذاتی اختیارات کے ڈیٹا کی انٹرنیٹ پر کوئی بات نہیں ہے لیکن افسوس کہ اس ملک میں اس کے قوانین سے متعلقہ اداروں نے چپ سادھی کو جنم دیا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ ان کی ویب سائٹ اور اینڈرائیڈ ایپس کے پاس یہ ڈیٹا آیا ہے؟ کیا یہ نادرا کا ڈیٹا ہے یا یہ ڈیٹا اور اس سے لکھا گیا ہے۔ اس بارے میں میں چیئر مین نادر طارق ملک کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا نادرا کا نہیں ہے۔ نادرا کا ڈیٹا انتہائی حد تک محفوظ ہے، اسے کوئی خیال نہیں ہے۔

نادرا وزیر کا کہنا ہے کہ یہ موبائل فون کمپنی سے چوری کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ سے یہ پیش کیا کہ نادرا کا ڈیٹا اردو میں ہے جب کہ ویب سائٹ اور ایپس پرموجود ڈیٹا انگریزی میں۔ موبائل فون کمپنی جب کسی شخص کو سمیٹ دیتی ہے تو وہ اس کا شناختی کارڈ نمبر جاری کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکا بائیومیٹرک لیا جاتا ہے۔ بائیومیٹرک سے کی نادرا کے ڈیٹا سے تصدیق ہوتی ہے۔

اصولاً موبائل فون کمپنیز کو بائیو میٹرک کے بعد یہ ڈیٹا اپنے پاس محفوظ نہیں کرنا چاہیے لیکن ایسا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بینکس کے پاس بھی نادرا کے ڈیٹا سے ویری فیکیشن سسٹم موجود ہے اور اس وقت انٹرنیٹ پر پاکستانیوں کا ڈیٹا موجود ہے۔ ویب سائٹ خریدنا اور اپنے سرور کو ڈالر پر بھیجنا۔

پاکستانیوں کا یہ حساس ڈیٹا انٹرنیٹ پر اس تک رسائی دنیا بھر سے بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات آپ کو ملک سے بھی فراڈ کالز آتے ہیں۔ اس ڈیٹا کی انٹرنیٹ پر کارروائی پر آپشن پی ٹی اے کے پاس۔ پی ٹی اے ایسی ویب سائٹ اور ایپس کو پاکستان میں بند بند۔ اب تک ٹی اے کو اسی طرح 18/20 ویب سائٹس اور اینڈرائڈ ایپس کی پی سی کی جانچ کی ہے لیکن یہ ویب سائٹ اور ایپس آج بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ پی ٹی اے اسی طرح کی ویب سائٹ یا ایپس کا کنٹرول ہے لیکن ایف آئی اے کرائم اس سے کئی قدم پر ناصرف یہ ویب سائٹ اور ایپس سائبر سائبر سائٹ آگے بڑھنے کے عمل کو کنٹرول کرتی ہے بلکہ انٹرنیٹ کو استعمال کرنے کے لیے مختلف سائبر سائبر کرائم بیان کرنے پر مجبور ہے۔ اس کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار ایف آئی اے سائبر کرائم کے ہی پاس ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم کے پاس ملک میں فشنگ سے متعلق کارروائیوں میں شکایات موجود ہیں لیکن ساتھ نہیں ہیں۔ اس مہم میں ایف آئی آئی اے سائبر کرائم ایک اعلی افسر نے بات کرنے کے بارے میں عجیب بات کی کہ فشنگ والے جن نمبرز سے کرتے ہیں ان کی جب لوکیشن بھی جاتی ہے تو وہ جنوبی پنجاب میں دریا کے یا جنگلوں کی آتی ہے۔ عام طور پر چند ہزار سے چند لاکھ کا فراڈ ہوتا ہے، جس کے لیے ان انتخابات میں انتخاب کرنا ممکن نہیں ہے۔ فشنگ کے حالات میں ایک طریقہ بائیومیٹرک کا استعمال بھی۔

بر فراڈ کرنے والے بائیومیٹرک سے سندھ کے انگوٹھے مشینوں کے فنگر پرنٹس سیلیکون پر آتے ہیں اور پھر یہ سیلیکون فنگر پرنٹس مزید ٹرانزیکشن کے لیے استعمال ہونے والے نمبر پر ہیں۔ نادرا وزیر کا بتانا ہے کہ اس نظام کے فراڈز کو اعتماد کے لیے نادرا نے اپنے سسٹم میں جدت پیدا کی اور اب بھی کسی بائیومیٹرک مشین پر رجسٹریشن بینک ہو یا موبائل فون کمپنی میں، نادرا کا نظام بھی کسی کی دس انگلیوں سے۔ اگر آپ کسی انگلی کی مشین پر نظر رکھ سکتے ہیں

اس سے سائبر کرمنلز کو فراڈ کرنے والے فنگر پرنٹ حاصل کرنے کے لیے تمام دس انگلیوں کو آسان بنانے کے لیے سیلیکون فنگر پرنٹ پڑھنا جو کام نہیں کرتا۔ ایک اطلاع کے مطابق پاکستان کی جانب سے انٹرنیٹ پر انٹرنیٹ کے ذریعے گوگل سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور اسے اسی طرح کی ویب سائٹ اور اینڈرائڈائڈ ایپس کی پوری طرح درخواست کی گئی ہے اور ویب سائٹ اور ایپس کو بند کر دیا گیا ہے۔ استعمال اس میں ایکشن بھی دیا گیا ہے کہ گوگل اگر ایسا نہیں ہے تو آپ کو کم از کم ان ویب سائٹس اور ایپس پر نشانات بند کردے کہ یہ نمبر والے ان نشانات سے ہی کمزور کمار ہے۔ فشنگ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بھارت میں بھی یہ تیزی سے پنپتا ہوا جرم۔

پاکستان میں فشنگ کی کارکردگی سے پاکستانی اداروں کی جانب سے یہ مسئلہ تیزی سے بڑھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر اس جرم کو روکا نہیں گیا تو واقعی ”کام آئے گا”۔

setTimeout(function()
!function(f,b,e,v,n,t,s)
if(f.fbq)return;n=f.fbq=function()n.callMethod?
n.callMethod.apply(n,arguments):n.queue.push(arguments);
if(!f._fbq)f._fbq=n;n.push=n;n.loaded=!0;n.version=’2.0′;
n.queue=[];t=b.createElement(e);t.async=!0;
t.src=v;s=b.getElementsByTagName(e)[0];
s.parentNode.insertBefore(t,s)(window,document,’script’,
‘https://connect.facebook.net/en_US/fbevents.js’);
fbq(‘init’, ‘836181349842357’);
fbq(‘track’, ‘PageView’);
, 6000);

/*setTimeout(function()
(function (d, s, id)
var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0];
if (d.getElementById(id)) return;
js = d.createElement(s);
js.id = id;
js.src = "//connect.facebook.net/en_US/sdk.js#xfbml=1&version=v2.11&appId=580305968816694”;
fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);
(document, ‘script’, ‘facebook-jssdk’));
, 4000);*/


Source link

Related Articles

Back to top button