تازہ ترینکاروبار

عدالت نے پوچھا کہ پٹرول اور ڈیزل پر کتنا ٹیکس لگایا جا رہا ہے؟

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے پیر کو وفاقی حکومت کو پٹرولیم مصنوعات بلخصوص پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو چیلنج کرنے والی درخواست پر تفصیلی جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔

ایس ایچ سی کے دو ججوں کے بینچ نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ 25 اکتوبر تک اپنا جواب پیش کرے ، یہ بتاتے ہوئے کہ وہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو بڑھانے کے لیے کون سا فارمولا استعمال کرتے ہیں۔

حکام کو مزید وضاحت کرنے کی ضرورت ہے کہ فی لیٹر پٹرول پر کتنا ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ کیس کی سماعت 25 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: (Petrol) پٹرول دوبارہ مہنگا ہو سکتا ہے

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 30 ستمبر کو حکومت نے اکتوبر کے پہلے پندرہ روز کے لیے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کی منظوری دے تھی جبکی مٹی کے تیل کی قیمت میں 7.05 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 8.82 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا گیا تھا۔

پٹرول 4 روپے اضافے کے ساتھ اب 127.30 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 2 روپے کے ساتھ 122.04 روپے فی لیٹر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button