تازہ ترینصحت

گرمی کی شدت دل کے کام کرنے کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے، ماہرین


ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صرف سردیوں میں ہی امراض قلب کے خطرات نہیں ہوتے بلکہ سخت گرمیوں میں بھی ایسا ہوسکتا ہے اور گرم موسم کی شدت دل کے کام کرنے کے عمل کو متاثر کرسکتا ہے۔ 

ہاورڈ ہیلتھ کے مطابق امراض قلب میں مبتلا لوگوں کے لیے کہر آلود (دھند)، گرم اور نم آلود موسم خطرناک ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کو بہت زیادہ ٹھنڈا اور بہت گرم نہیں رہنا چاہیے کیونکہ موسم کی یہ دونوں شدت دل کو متاثر کرتی ہیں۔

ہاورڈ ہیلتھ رپورٹ کے مطابق جب انسانی جسم کا درجہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو پروٹین جس سے جسم بنا ہوتا اور اس کو چلانے کے تمام کیمیائی عمل کو بھی یہی چلاتا ہے، تو گرمی کی وجہ سے یہ کام نہیں کرپاتا۔

انسانی جسم اضافی گرمی کو دو طرح سے خارج کرتا ہے یعنی شعاعوں اور پسینے کی شکل میں خارج کرتا ہے اور یہ دونوں دل پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔ شعاعوں کے اخراج کے دوران دل خون کو جلد تک پہنچانے کے لیے ری روٹس بہت زیادہ کرتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن تیز اور پمپنگ سخت ہوجاتی ہے۔

سردیوں کے مقابلے میں نسبتاً گرم دن کے دوران دل دو سے چار گنا زیادہ خون کی گردش کو یقینی بناتا ہے اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پسینہ خارج کرتا ہے جس کے نتیجے میں جسم سے سوڈیم، پوٹاشیم اور دیگر اہم معدنیات جو کہ پٹھوں، اعصابی نظام اور پانی کے توازن اور ان کے افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں نکل جاتے ہیں اور یہ خطرناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے۔

ایسی صورتحال سے محفوظ رہنے کے لیے ماہرین صحت دل کے مریضوں کو گرمیوں کے دوران گھروں پر ٹھنڈی جگہ پر رہنے کی ہدایت کرتے ہیں تاکہ ہیٹ ویو سے بچا جاسکے۔

 اس دوران کھانا پینا سادہ اور ہلکا ہونا چاہیے، جس میں تلی ہوئی اور مرغن غذاؤں سے اجتناب برتیں، سلاد اور فروٹس اور زیادہ مقدار میں پھلوں کا جوس اور کافی مقدار میں پانی کا استعمال بہتر سمجھا جاتا ہے۔ 

گرم موسم میں جم (ورزش) نہیں جانا چاہیے، کیونکہ ویسے ہی گرمی سے پسینہ خارج ہورہا ہو تو پھر دل پر زیادہ دباؤ ڈالنا اور ایکسرسائز کرنا امراض قلب کے حوالے خطرناک ہوسکتا ہے۔

مزید برآں پانی پینا بہتر ہے لیکن کیفینیٹڈ ڈرنکس سے اجتناب ضروری ہے، پانی آپ کے جسم کو ٹھنڈا اور دل کو کافی ریلیف پہنچاتا ہے۔

 ہاورڈ ہیلتھ نے اس حوالے سے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ ہر گھنٹے بعد ایک گلاس پانی سخت گرم اور نم آلود موسم میں پینا کسی بھی خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے بہتر ہے، لیکن چینی والا سوڈا وغیرہ نہیں پینا چاہیے۔




Source link

Related Articles

Back to top button