ٹیکنالوجی

پانی: زندگی کی بنیاد اور ایک ہم گیر محلل

کرّۂ ارض پر موجود تمام قدرتی وسائل میں ”پانی” کو ایک بنیادی بنیاد حاصل ہے اور اس کی طاقت اس وقت دوچند ہوتی ہے جب یہ زمین پر مختلف اطراف میں موجود ماحول میں اپنی تخلیقی جوہری اور سالماتی ساخت کی بقاء کی خاطر کئی پہلوئوں کو حاصل کرتی ہے۔ میں تبدیل ہوتا ہے اور اس کا ہر پہلو اپنی جگہ ایک خاص بات ہے۔

اس بات کا اندازہ سب سے پہلے اس حقیقت سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ حیات کے وجود کے حصول کے لیے جو خوراک موجود ہے اور غذائیت سے پیوستہ ہے۔ لیکن ایک متوازن خوراک جو زندگی کی نشو و نما کے لیے اہم ہے۔ بغیر ”ع پانی” ممکن ہی نہیں، کیوں کہ خوراک کے بغیر کوئی بھی جانداز چند ہفتے گزار سکتا ہے لیکن ”مائع پانی” کی موجودگی میں چند ایام گزارنا مشکل ہی نہیں ہے۔

یہ انسانی جسم کا 70 وزن صد شکری طور پر ”مائع پانی” پر ہوتا ہے لہٰذا اس قدرتی مقدار کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ”میڈیکل سائنس” کے ذخیرے سے توجہ طلب، کیوں کہ ”مائع پانی کے بیشتر مرکبات کو حل کرنے کے ساتھ مل کر توانائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ۔ تمام قدرتی عمل کے جسم میں ایک جیلی کی طرح کا مادّہ ”سائی ٹو پلیم” میں انجام پاتا ہے جو پانی سے لبریز ہوتا ہے۔ یہاں سے پانی کے اجزاء کو خون میں موجود سیال (بلڈ پلازما) کا ایک اہم جز ہوتا ہے، جس میں 90 فی صد پانی ہوتا ہے۔

جس کی وجہ سے جسم کا نظام رواں دواں ہے۔ دُوسری کی طرف طبعی سائنس میں اَرضی علوم کے الفاظ سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ سطح زمین پر موجود چٹان جب نئے ماحول کا مقابلہ کرتے ہیں تو وہ اس کے ماحول کے مطابق (درجہ حرارت، دبائو، دیگر حالات) میں تبدیلی لا کر کسی نئے روپ میں ( طبعی یا ڈھال رُوپ) میں جاتے ہیں، کہ ان کی بقاء کو تحفظ حاصل ہے۔ چونا پتھر زیرزمین مثلاً درجہ حرارت میں ” سنگ مرمر کے ساتھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح ”پانی” بھی اپنی اور سالماتی بقاء کے لیے کرّۂ اَرض کی حالت میں تبدیلی کے ساتھ اپنی قلمی ساخت کو ازسرِنو تشکیل دیتا ہے۔

مجموعی طور پر اسے ”تغیّر تصوری (میٹامورفزم) کا عمل کہتے ہیں۔ آپ کی وجہ یہ ہے کہ سرد اور بلند کوہستانی خطّوں میں جہاں درجہۂ درجہۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے۔ ”مائع پانی” یعنی برف میں تبدیل ہو کر کوستانی خطّوں کے اطراف میں موجود چٹانی جسم کے پاس موجود ہیں جن میں منجمد ہو کر شام دبائو پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے چٹانیں شکست و ریختہ کر کے صرف ملبے کا ڈھانچہ بن جاتی ہیں۔ بلکہ بتدریج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریزہ ریزہ ہو کر ریت میں بدل جاتا ہے۔

ان چٹانی جسم میں پیشی کے طور پر بلند کثافت کی حاملہ دھاتیں مثلاً طلاء (سونا) بھی شامل ہے لیکن ان کا حصول اور استخراج ان سنگلاخ یخ بستہ ڈھونڈی سے براہ راست ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں ”مائع پانی” مثبت درجۂ درجہ حرارت والے ”عمل تبخیر” کے ذریعے بھاپ میں تبدیل ہو کر بارش سے بنتے ہیں، جس کے ذریعے ملبے اور معاشی دھاتی ذرّی میدان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا بلکہ معیشت پر بھی سودمند اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پانی: زندگی کی بنیاد اور ایک ہم گیر محلل

پانی کی کسی حالت میں بھی ہو اس کی تصویر میں کوئی فرق نہیں پڑتا، صرف پانی کے خواص اور رویہ میں تبدیلی آتی ہے، جس کا اندازہ مختلف درجۂ حرارت پر ”مائع پانی” کے سالمات کے قلمی نظام سے ہوتا ہے۔ مائع پانی کے سالمات میں دو ہائیڈروجن جوہر آکسیجن کے جوہرکےساتھ مضبوط بند باندھیں،تاہم ہائیڈروجن جوہر کے ایک ہی رنگ میں دو ہائیڈروجن جواہر کی شکل میں غیریکسانیت (غیر متناسب) پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مائع پانی کے سالمات قطبی پولرائزڈ ہیں، جس سے مراد یہ ہے کہ جب ہائیڈروجن کی بندش (بانڈنگ) زیادہ برقی منفیت (الیکٹرونگیٹیویٹی) والے عناصر مثلاً آکسیجن، فلورین، نائیٹروجن کے ساتھ ہوتے ہیں۔ تو سالمات قطبی (پولر) یعنی مثبت اور منفی چارج ہوتا ہے۔

اس طرح ساخت بنانے والے سالمات کو دُہرا قطبی (ڈپولر) کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے۔ اس طرح سے یہ سالمات کے درمیان ایک ”برقی سکوسی کشش” (الیکٹرو سٹیٹک کشش) اس وقت قائم ہوتا ہے، جب مثبت قطب والے سالمات اپنے منفی قطب والے جوہر کو مائل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جب پانی کی حالت ہوتی ہے تو اس کے سالمات ایک دوسرے کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں۔ قطبیت (پولرائز) کی وجہ سے سالمات باہم قریب۔

مائع پانی کے سالمات میں عام طور پر برقی کشش ہونے کی وجہ سے دوسرے ممالک یعنی مرکبات باآسانی سالمات کی طرف مائل پیپر ہوتے ہیں اور پھر حل ہو جاتے ہیں یا پانی کے ساتھ منتقل ہو جاتے ہیں۔ مائع پانی کی خصوصیات کی وجہ سے گندے کپڑوں کو صاف کرتا ہے اور خون میں موجود پانی کو جسم کے لیے اور رَگوں تک استعمال کرتا ہے۔ باقیات کو گردے (گردے) تک منتقل کر کے جسم سے باہر دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی کو ”ایک ہمہ گیر محلّل” (عالمگیر سالوینٹ) کے درجہ پر فائز کیا گیا ہے، تاہم ”ٹھوس پانی” یعنی برف میں ایسا نہیں ہوتا۔

برف میں سالمات آپ کے مقابلے میں زیادہ (پیکڈ) نہیں کہیں کہ ”مائع پانی”۔ یہاں درجۂ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ”قلمی نظام” ازسرِنو ترتیب پاتے ہیں۔ جب پانی صفر سینٹی مثبت پر منجمد ہوتا ہے تو سال کا مثبت مثبت نتیجہ ہوتا ہے۔ لوگ ”ہائیڈروجن بندش” یعنی اسی قوتِ کشش جو ہائیڈروجن کو اپنے ساتھ شامل کریں۔ تین جہتی

برف کے گالے (برف ہیکس) اگر شہد کی مکھی کے چھتے کا برف کی قلمی سے کیا جا سکتا ہے تو یہ بن کر تیار شدہ پانی کے سالمات کے مقابلے میں کم کسے (کم پیکڈ) ڈل ہے۔ یہ ہے کہ ٹھوس پانی یعنی برف کیوں پانی کے مقابلے میں کم کیف (کم گھنا) ہوتا ہے۔ یہ ٹھوس مائع حالت کے درمیان غیرمعمولی تعلق کو ظاہر کرتا ہے کہ کوئی زیادہ تر مادّوں میں ٹھوس حالت زیادہ کثیف (زیادہ گھناؤنا) ہے، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ یہ ایک برفانی پانی کے مقابلے میں کثیف ہے۔ جس کے بہت گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

یہ حقیقت تو عام تیرے مشاہدے میں ہے کہ برفانی پانی میں ڈوبنے کے لیے نظر آتا ہے۔ ”آئس برگ” یعنی برف کے کئی ٹن کے تودے سمندر میں بھی تیرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جھیلیں اُوپر سے نیچے کی طرف سے منجمد ہوتی ہے۔ جھیل میں منجمد ہوتی ہے برف کے نیچے موجود پانی کے لیے حاجز (انسولیٹنگ لیئر) کا کام آخری نشان کے نیچے موجود پانی کے منجمد ہونے کے عمل کو کم کر دیتا ہے۔ اگر برف ڈوب جائے تو جھیل کا پانی زیادہ منجمد ہو، جس کی وجہ سے برف کے پگھلاؤ کا عمل سستا ہو جائے گا۔

اگر برف نیچے ڈوب جاتا ہے تو دُنیا کی آب و ہوا اور ماحول مختلف ہو جائے گا۔ مثلاً بحر منجمد (آرٹک اوقیانوس) موسم سرما کے دوران یخ زدہ ہو جاتا ہے لیکن صرف سطح پر تقریباً 10 سے 15 فٹ تک۔ اگر برف کے نیچے غرق ہو جائے تو سمندر کا پانی اُوپر آ کر سرد فضا میں ضم ہو جائے گا اور پھر برف کے نیچے کی طرف سے ڈوب کریٹ بحر منجمد کو برف کا ڈھیر بنا سکتا ہے۔ موسم گرما میں بھی برف نہیں پگھل گی اگر ایسا ہو تو زندگی کا وجود ممکن نہیں ہے۔

ٹھوس پانی یعنی برف کی ایک اور منفرد خصوصیت سامنے آتی ہے کہ یہ بلند و بالا چوٹیوں کو وسط عرض البلد جہاں شب و روز سردی اور گرمی پڑتی ہے تو یہ موسم کے مقابلے میں ایک ایجنٹ بن جاتا ہے۔ ‘ (فراسٹ ایکشن) کا عمل کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر شکست و ریخت کا ایک اہم کارندہ بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پانی صفر سینٹی یا 32 فارن ہائیٹ پر منجمد ہوتا ہے تو انفرادی طور پر پانی کے سالمات ایک قرینے سے قلمی ساخت میں ترتیب پاتے ہیں۔

چوں کہ برف کی قلمی ترتیب، مائع پانی کے مقابلے میں زیادہ اور جگہ گھیرتی ہے جس کی وجہ سے پانی کے حجم میں 9فی صدافہ ہوتا ہے۔ آپ ان کے اپنے آپ کو جہاں وقت کی گرمی اور رات کو سخت سردی اور برف باری ہوتی ہے اس دن گرمی سے چٹانیں ہوتی ہیں اور رات کو سردی سے سکڑتی ہیں اس طرح بار تپشیو (تھرمل توسیع کا کو-اثر) اور سکڑاؤ (تھرمل سنکچن کا موثر) سے چٹانوں کی قدرتی بندش ڈھانچہ کر کے پڑھتے ہیں کہ مختلف موضوعات کے جسمانی جسم ہوتے ہیں اسی وجہ سے الگ الگ تپشیاؤ اور سکڑاؤ کی ترقی کو ظاہر کرتے ہیں۔ جو چٹانی جسم کے اندرونی سالمات میں غیریکساں دبانے سے بنتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اندر سے تناؤ اور کھنچاؤ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اس طرح چٹانیں چٹخ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی سطح پر خلاء، دراڑ پڑتے ہیں۔ اور جوڑ نمایاں طور پر نظر لگتے ہیں۔

کی نمی، شبنمی قطرے اور پھر بارش کے نئے برف کے تہہ کا وزن ان پر تیز رفتاری سے اثرانداز ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ صرف ملبے کا ڈھیر نہیں ہوتا بلکہ ایک طویل مدت کے بعد سنگریزوں میں منقسم بھی ہوتا ہے۔ جیسے ہیں کہ ان کوہستانی بچوں میں بعض چٹانیں بھی ہوتی ہیں جن کی پیدائش کے بعد زمین کے اندر سے دھاتی عناصر میں خودکفیل محلول زبردست قوت کے ساتھ داخل ہوتا ہے اور مکمل جسم میں نسوں (رگوں) کا ایک جال عام طور پر ہوتا ہے۔ پر کوارٹز اور اس کے ساتھ بھاری کثافت والی دھاتی اجزاء مثلاً گولڈ (کثافت 19.3) پر مشتمل ہوتا ہے۔

اسی طرح چٹانیں بھی ”یخ زدگی” کی زَد میں آکر سنگریزوں کے ساتھ ملبے کا ڈھیر بن کر کوہستانی خطّوں کے اطراف میں جمع ہیں لیکن ان سنگریزوں اور دھاتی اشیاء کی رسائی کے میدان تک مکمل آبیات۔ ”تکثیف” بغیر ممکن ہے یہ پانی پانی ہے جو سُورج کی حرارت کی وجہ سے دریائوں، جھیلوں، سمندروں اور گیلی زمین سے بھاپ بن کر فضاء میں بسیط میں خاموشی سے بارش اور برف باری کا بنتا ہے۔

یہ کائنات کا ”آبی بیماری” (ہائیڈرولوجیکل سائیکل) ہوتا ہے جو لمحہ ایک نقطہ نظر کے ساتھ جاری ہوتا ہے، جس سے نالے، ندی اور بڑے دریا پیدا ہوتے ہیں۔ جب دریا کوہستانی تجربہ دواں ہے تو ابتداء میں یہ سرعت کے ساتھ بہت بڑی طاقت اور توانائی ہوتی ہے، جس کے زیرِاثر وہ اپنے بھاری طاقت کے ساتھ، کنکر، ریت اور دھاتی ذرّات کو آسانی سے لے جایا جاتا ہے۔ ۔

اپنے تمام (لوڈ) کے ساتھ میدان باری کی طرف پیش قدمی ہوتی ہے۔ اب اگر اب بھی پاکستان میں کسی دریا کے راستے میں کوئی چٹان آ جائے تو میں کوئی خاص قسم کی دھات یا مالی معاونت میں موجود ہوں تو وہ ان والی چٹانی ٹکڑا کے ساتھ ان کے جُز یا کوبہ کو پانی کے ساتھ بھی کر میدانی نشانے پر لے جاتا ہے۔ تک ہمسفر ہو جاتی ہے۔

دریائی پانی کے کٹاؤ کے نتیجے میں یہ حملہ فاصلہ سے راستہ اختیار کرے گا، اسی طرح عمل گھساؤ (گھساؤ) کے ذریعے بڑے بڑے بلاک سے باریک ٹک میں تقسیم کریں گے اور سب سے آخر میں ریت سائز (2 سے 1/16) ملی میٹر قطر یعنی انسان کے ساتھ بال کی موٹائی کے برابر) جس میں ”سونے” کے ذرّات بھی اسی سائز میں ریت کے ساتھ مخلوط حالت میں موجود ہیں۔ جب دریا کا پانی ان اجزاء کو لے کر پہاڑی ڈھالوان سے میدانی دنیا کی طرف بڑھتا ہے تو اس کی طغیانی کم ہو جاتی ہے۔ پانی کی ولسٹی کم ہونے کی وجہ سے یہ سستی اور دھیما ہو جاتی ہے۔ نشان اور کنکر نیچے تہہ میں۔ ساتھ ہی بھاری دھاتی ذرّات ریٹ کے ساتھ مقید ہو اس کا حصہ بن کر۔

ریت اور اس میں شامل ”سونے” اور دیگر بھاری سامانی ذرّات پانی کی گزرگاہ میں ایک رُکاوٹ بن۔ پانی کا بہاؤ اس رُکاوٹ سے منہ موڑ کر دُوسرے کی طرف خطِ منحنی (کرو) طرز کی خمیدگی (توڑنا) پیدا کر کے آگے کی طرف سفر جاری ہے۔ مسلسل اس عمل سے جاری خمیدگیوں کا ایک طویل سلسلہ رُونما ہوتا ہے اسے دریا کا پیچ و خم (مینڈر) کہتے ہیں۔

اسی راستے پر دریا ایک بلے ہوئے سانپ کی مانند رواں دواں خاموش۔ انفرادی گہرائی والے دکھائے گئے میں اور رتّے کے نمونے کے ذریّات تہہ نشیں ہو کر مرجائیں گے۔ ذخائر کو ”پلیسر” (پلیسر) ذخائر کہتے ہیں۔ بعض اوقات پیچ و خم کا حصہ کٹ کر الگ ہوتا ہے تو اس میں ریت کے ساتھ ”سونا” اور دیگر دھاتی اشیاء کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ جہاں سے رسائی ممکن ہے۔ پیچ و خم کے اس کٹے ہوئے حصہ کو ”بڑا کمانی دار خمیدہ جھیل” (آکسبو لیک) کہتے ہیں۔ اسی طرح کی خمیدگی میں خاص کر کوستانی دریا سے جو بہی خواہ ہیں ان کی ریت کے ساتھ عمومًا وہ دھات حاصل کروں گا دریا بہا کر لایا۔

جہاں سے دریا کا راستہ اختیار کرنا ان تمام گزرگاہوں میں دھاتی ذرّات کے نشانات حاصل کرنا اب اگر یہ معلوم ہو جائے کہ دریا کے پانی میں ”سونے” کے معلق ذرّات ہیں تو ان کے کسی دریا کے بہاؤ کے نہ مقام یا خطّہ میں جگہً اطلاع ہے۔

”سراغ رساں” کو سراغ رساں ایجنٹ تسلیم کر کے تلاش کرنے کا آغاز کیا جاتا ہے جو ذخائر کےماخذ تک رسائی کا سبب بنتا ہے۔ سراغ رساں ذرّات کے توسط سے عام طور پر ”سونے” کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان عناصر کو ”کھوجی دریائی تیراک” (ریور فلوٹ ٹریسنگ) کہتے ہیں۔ ان کھوجی عناصر کی جس پر تکنیک کا اطلاق کیا جاتا ہے وہ خصوصی طور پر مواد کی کثافت سے تعلق رکھتا ہے اسے پلسر کانکنی یا چھناؤ (پیننگ) کہتے ہیں۔

خمیدگی اورچشموں کے اطراف سے بیلچے (بیچے) کی مدد سے ریت کی گریل کو ایک اَتھلے چھلنی میں رکھا جاتا ہے، پھر اس میں ”مائع پانی” کو شامل کیا جاتا ہے۔ چھلنی کوایک کی طرف جھکا کر ”دائری ڈرائیو” میں متحرک ہوتے ہیں۔ ایسا کرنے سے کم کثافت والے دھات کو چھلنی کے کناروں پر جمع کر دیتے ہیں۔ اس طرح ”پانی” اپنی تہّ کی طاقت دیتا ہے بھاری کثافت کے پیوست کے ٹکڑوں اور ذرات کو چھلنی کیہ میں مار کر۔

ابتدائی اَدوار میں ”پلیسر ذخائر” کو کمتر کا سمجھا جاتا تھا لیکن 1849ء میں یورپ نے اس کی طرف توجہ دی اور فورنیا میں بڑے پیمانے پر تلاش کا سلسلہ شروع ہوا، پھر فنیات کی بدولت معاشی طور پر قابل حصول اور بہتر ہے۔ استعمال بن چکا ہے۔




Source link

Related Articles

Back to top button