مسائل اور ان کا حل

پیکرِ علم و عمل حضرت امام محمد باقرؒ



سیّد صفدر حسین

حضرت امام محمد باقر ؒ، حضرت امام زین العابدینؒ کے فرزند ہیں۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام محمد باقرؒ بن حضرت امام زین العابدینؒ بن حضرت امام حسینؓ بن حضرت علیؓ ہے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت امام حسنؓ تھیں۔ آپ یکم رجب ۵۷ھ کو اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ سر چشمۂ علوم و ہدایت تھے۔ اس لئے آپ کوباقر العلوم کہاجاتا ہے۔ آپ نہایت متحمل مزاج اور مہربان تھے۔ تواضع اور عاجزی آپ کی طرۂ امتیاز صفات تھیں۔ آپ لوگوں کی ہرزہ سرائی کا جواب نہایت تحمل اور شفقت کے ساتھ دیتے۔ آپ کی اسی ادائے کریمانہ سے متاثر ہو کر ایک عیسائی مسلمان ہو گیا۔ 

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری صحابیٔ رسولﷺ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے اور آپﷺ کی آغوش میں آپ کے پیارے نواسے حضرت امام حسینؓ کھیل رہے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اے جابر! میرے اس فرزند کو اللہ تعالیٰ ایک فرزند عطا کرے گاجس کا نام علی (زین العابدین) ہو گا۔ جب قیامت کا دن آئے گا ،اس روز ایک منادی اعلان کرے گا ’’اللہ‘‘ کی عبادت کرنے والوں کے مقتدیٰ کو پیش کیا جائے۔ اس وقت علی بن حسینؓ (امام زین العابدین) بحکم الٰہی پیش ہوں گے۔ علی بن حسینؓ کو اللہ فرزند عطا کرے گا جس کا نام محمد(امام محمد باقر) ہو گا۔ اے جابر، جب تم میرے اس فرزند محمد سے ملو، اسے میرا سلام پہنچانا۔ اس کے بعد تم زیادہ عرصہ نہیں رہو گے۔

آپ کے سلسلہ ارشاد سے فیض یافتہ آپ کے فرزند رشید امام جعفر صادقؒ کے علاوہ دیگر فقہائے عظام بھی تھے ،جن میں امام ابوحنیفہ ؒ نمایاں تھے۔امام ابو حنیفہؒ عراق کے فقہاء میں ایک منفرد مقام کے حامل تھے۔ علم فقہ کے علاوہ علم کلام اور حدیث میں بھی آپ کو خاصا ادراک تھا۔ بوقت ضرورت قیاس بھی کرتے تھے، کیونکہ بحیثیت قانون کے طالبعلم ہم جانتے ہیں کہ رائج علم قانون کے منبع چار ہیں۔ قرآن، سنہ، اجماع اور قیاس۔ ظاہر بینوں نے امام موصوف کے متعلق مشہور کر دیا کہ آپ قیاس بہت کرتے ہیں۔ 

چنانچہ جب امام ابو حنیفہؒ کوفہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو علم اور روحانیت میں اس دور کی برگزیدہ ترین ہستی امام محمد باقرؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام باقرؒ نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا ’’ہاں تم ہی قیاس کی بناء پر ہمارے دادا کی احادیث کی مخالفت کرتے ہو؟ امام ابو حنیفہؒ نے امام باقرؒ کو عزت و احترام کے ساتھ نشست پیش کی اور عرض کیا ’’آپ ہمارے درمیان وہی قدر و منزلت رکھتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان رکھتے تھے۔ آپ تشریف رکھیں تو کچھ عرض کروں۔ سیدنا امام باقرؒ تشریف فرما ہوئے تو درج ذیل دلچسپ گفتگو ہوئی:

امام ابوحنیفہؒ:مرد ضعیف ہے یا عورت؟

امام باقر ؒ:عورت۔

امام ابو حنیفہؒ:وراثت میں مرد کا حصہ زیادہ ہے یا عورت کا؟

امام باقرؒ:مرد کا۔

امام ابو حنیفہؒ: میں قیاس کرتا تو کہتا کہ عورت کو زیادہ حصہ دیا جائے، کیونکہ ضعیف کو ظاہراً قیاس پر زیادہ ملنا چاہیے۔

پھر عرض کیا ’’نماز افضل ہے یا روزہ؟‘‘

امام باقر ؒ :نماز۔

امام ابو حنیفہؒ:اس اعتبار سے حائضہ عورت پر قیاس کی رو سے نماز کی قضا واجب ہونی چاہیے ،نہ روزہ کی؟میں ہمارے آقا ﷺ اورآپ کے داداﷺ کی حدیث کی روشنی میں عورت کے لئے روزہ ہی کی قضا کا فتویٰ دیتا ہوں۔

سیدنا امام باقرؒ امام ابو حنیفہؒ کا جواب سن کر اس قدر خوش ہوئے کہ ا ٹھ کر امام ابو حنیفہؒ کی پیشانی چوم لی اور دعا دی کہ فقہ میں تم امام اعظم ہو گے۔

حضرت امام محمدباقرؒ اپنے والد محترم حضرت امام زین العابدین ؒکی وفات کے بعد آپ کی مسند ارشاد و ہدایت کے وارث ہوئے اور اپنے جدِ گرامی قدرﷺ کی امت کو آپﷺ کے ابدی پیغام ہدایت سے فیض یاب کرتے رہے ۔ ۱۱۴ھ میں آپ اپنے خالق سے جا ملے اور جنت البقیع میں اپنے والد امام زین العابدینؒ ، بڑے دادا امام حسنؓ اور پر دادی سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء ؓکے پہلو میں دائمی استراحت فرما ہوئے اور امت کی رشد و ہدایت کے لئے اپنے فرزند جلیل حضرت امام جعفر صادقؒ کو چھوڑ گئے۔




Source link

Related Articles

Back to top button