تازہ ترینصحت

سورج کی روشنی میں وقت گزارنا تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے، تحقیق

فائل فوٹو

جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سورج کی روشنی میں زیادہ وقت گزارنے سے جسم میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس کے باعث آپ تھکاوٹ کا شکار ہوسکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ پانی کی معمولی کمی بھی مزاج کو بدلنے کے ساتھ تھکاوٹ کے احساس کو اُجاگر کرسکتی ہے۔ دھوپ میں بیٹھنا بنا کام انجام دیئے بھی جسم کے لئے سخت محنت کرنے کے مترادف ہے ۔

ماہر امراض جلد ہیتھر راجرز (Heather D. Rogers) کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں معمولی سی تبدیلی بھی جسم پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے افعال کو متاثر کرتی ہے اور جسم پسینے کے ذریعے بنیادی درجہ حرارت کو منظم رکھنے کے لئے کام کرتا ہے۔

اس طرح آپ کا جسم باہر کی نسبت اندرونی سطح پر زیادہ کام کرتا ہے اسی وجہ سے آپ پر تھکاوٹ اور نیند کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔

جسم کی یہ تھکاوٹ معمول کی بات ہے جس کا عام مشاہدہ ساحل سمندر سے واپسی پر ہوتا ہے جب جسم میں پانی کی کمی کے باعث تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق دن میں 8 گلاس پانی پینا چاہیئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام افراد مذکورہ مقدار میں پانی پینے سے جسم میں پانی کی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔

جو افراد دھوپ میں کام کرتے ہیں انہیں زیادہ پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے نسبتاً ان افراد کے جو سارا دن کسی اندرونی جگہ پر گزارتے ہیں۔

نیز کچن میں کام کرنے والے افراد کو چاہیئے کہ وہ بھی پانی کا استعمال بڑھا دیں کیوں کہ کچن کا درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے جس کے باعث پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایک مصروف دن کے اختتام پر عام تھکاوٹ اور گرمی کی تھکاوٹ میں بہت واضح فرق ہوتا ہے۔ 

گرمی کی تھکاوٹ میں جسم اندرونی درجہ حرارت کو منظم رکھنے کے لئے جسم کے پانی کو جلد کی سطح پر لے آتا ہے پسینہ زیادہ آنے کی وجہ سےجسم میں پانی کی کمی ہونے لگتی ہے۔

اس طرح تھکاوٹ کے ساتھ نبض بھی تیزچلنے لگتی ہے اور نیند یا بے ہوشی محسوس ہونے لگتی ہے، یہ تمام علامات گرمی کی تھکن کی ہیں۔ 

ایسی صورت میں کسی ٹھنڈی جگہ کا رخ کریں ٹھنڈا پانی استعمال کریں علامات برقرار رہنے کی صورت میں اپنے معالج سے رابطہ کریں۔

کوشش کریں دھوپ میں وقت گزارنے سے گریز کریں، اگر جانا ضروری بھی ہوتو چھاؤں میں چلیں اور پانی کا استعمال زیادہ کریں تاکہ صحت مند رہ سکیں۔




Source link

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button