اسلام

طوافِ زیارت کے وقت طوافِ وداع کی نیت کرنے سے طوافِ زیارت ہی ہوگا

تفہیم المسائل
سوال: میں ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب میں میقات سے باہر ایک مقام بریدہ ہے، وہاں مقیم تھا، میں نے 1993ء میں حج ِ قران کیا ، مسئلہ معلوم نہ ہونے کے سبب میں نے طوافِ زیارت کے بجائے طوافِ وداع کی نیت کرلی، اُس کے بعد سعی بھی کی اور پھر کوئی طواف نہیں کیا ۔ 2015ء میں میرا دوبارہ حج پر جانا ہوا تو میں نے 1993ء کے حج کا طواف زیارت کیا اور دَم بھی دیا، اس بارے میں شرعی حکم کیاہے؟ (ایک بندہ، ریاض)
جواب: مطلق نیت سے ہر طواف ہوجاتا ہے ، یہ شرط نہیں کہ کسی معین طواف کی نیت کرے، بلکہ جس طواف کو کسی معین وقت میں کیا، لیکن کسی اور طواف کی نیت کی تو یہ دوسرا طواف نہیں ہوگا، بلکہ مُعین وقت کا طواف ہوگا۔ آپ نے جو طواف کیا ، وہ وقت طوافِ زیارت کا تھا ، آپ نے طوافِ وَداع کی نیت کی، لیکن یہ طوافِ زیارت ہی محسوب ہوگا، طوافِ وداع آپ کے ذمے واجب تھا اور آپ اس کا دَم دے چکے ہیں، لہٰذا اب مزید کوئی شے آپ پر لازم نہیں اور اللہ تعالیٰ اس تقصیر کو معاف فرمانے والا ہے۔

علامہ حسن بن منصوراوزجندی المعروف قاضی خان لکھتے ہیں : ترجمہ:’’ جب طوافِ زیارت کوترک کرے اور طوافِ صدر (طوافِ وداع) کرلے ، تویہ طوافِ زیارت ہی قرار پائے گا اور اُس پر طوافِ صدر کے ترک کرنے پر دَم لازم ہوگا اور اگر خاص طور پر طوافِ صدر کو ترک کرے تو اس پر اس طواف کو چھوڑنے کی وجہ سے دَم لازم آئے گا ‘‘۔ آگے چل کر لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اگر وہ طوافِ زیارت کے وقت میں طواف کرے، تو وہ طواف،(طوافِ) زیارت ہی کے لیے ہوگا ،اگرچہ اس کی نیت نہ کرے ، البتہ نیت ِ طواف ضروری ہے اور جہت کا اعتبار نہیں ہوگا ،(فتاویٰ قاضی خان ،جلد1،ص:148)‘‘۔

علامہ ابوبکر بن علی بن محمد الحداد یمنی ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’(مطلق) طواف کی نیت ضروری ہے اور جہت (یعنی طواف ِ زیارت یا طوافِ وداع وغیرہ) کے معین کرنے کی ضرورت نہیں ہے ‘‘۔ آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’ پس طواف کی نیت ضروری ہے ،کیونکہ جہت (یعنی کون سا طواف) کی نیت تعیین کے لیے ہوتی ہے، حتّٰی کہ اگر یوم النحر (دس ذوالحجہ) کو ایساطواف کیا، جس کو اس نے خود اپنے اوپر واجب کر رکھا تھا (یعنی منّت مانی ہوئی تھی)، تو وہ بھی طوافِ زیارت میں محسوب ہوگا ، (اَلْجَوہَرَۃُ النَّیِّرَۃ ، جلد1، ص:159)‘‘۔ کیونکہ یہ وقت اس کے لیے شرعاً مُتعیّن ہے، اس کے بعد چاہے تو اپنی منّت کا طواف کرلے ۔

طوافِ رخصت یا طوافِ وَداع میقات سے باہر رہنے والوں پر واجب ہے اور اگر بالفرض کوئی حاجی طوافِ رخصت کیے بغیر چلا گیا تو دَم دینا کافی ہوگا، اس کی قضا لازم نہیں ہے۔ غرض1993ء کے حج میں آپ کا طوافِ وداع عنداللہ طوافِ زیارت میں محسوب ہوگیا اور آپ کا حج صحیح طور پر ادا ہوگیا، طوافِ وداع کے ترکے کرنے پر آپ نے 2015ء میں دَم دے دیا ،اس سے بھی الحمد للہ آپ عہدہ برا ہوگئے، اب آپ کے ذمے کچھ نہیں ہے۔

Source link

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button